تین بنیادی اصول

مؤلف: شیخ محمد بن عبد الوہاب

ہم پر چار امور کا علم حاصل کرنا واجب ہے۔

پہلا: علم، یعنی دلائل کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کے رسول ﷺ کی معرفت اور دینِ اسلام کی معرفت حاصل کرنا۔

دوسرا: اس علم پر عمل کرنا۔

تیسرا: اس کی طرف دعوت دینا۔

چوتھا: اس راستے میں پیش آنے والی تکالیف پر صبر کرنا۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا:

”باب: علم قول اور عمل سے پہلے ہے۔“

اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

”پس جان لیجیے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اور اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کیجیے۔“

[سورۃ محمد: 19]

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قول اور عمل سے پہلے علم کا ذکر فرمایا۔

پہلا بنیادی اصول

اگر تم سے پوچھا جائے: تمہارا رب کون ہے؟

تو کہو: میرا رب اللہ ہے، جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے میری پرورش کی اور تمام مخلوقات کی پرورش فرمائی۔

اور وہی میرا معبود ہے، اس کے سوا میرا کوئی معبودِ برحق نہیں جس کی عبادت کی جائے۔

اگر تم سے پوچھا جائے: تم نے اپنے رب کو کیسے پہچانا؟

تو کہو: اس کی نشانیوں اور اس کی مخلوقات کے ذریعے۔

”اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔

وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنایا،

اور آسمان کو چھت بنایا، اور آسمان سے پانی اتارا، پھر اس کے ذریعے تمہارے رزق کے لیے پھل پیدا کیے۔

پس جانتے بوجھتے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔“

[سورۃ البقرۃ: 21-22]

ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ان تمام چیزوں کا خالق ہی حقیقی طور پر عبادت کا مستحق ہے۔“

اللہ تعالیٰ نے جن اقسامِ عبادت کا حکم دیا ہے، جیسے اسلام، ایمان اور احسان، ان میں یہ عبادات بھی شامل ہیں:

دعا
(دعاء)
خوف
(خوف)
امید
(رجاء)
توکل
(توکل)
رغبت
(رغبة)
خوف و خشیت کے ساتھ اجتناب
(رهبة)
خشوع
(خشوع)
خشیت
(خشية)
اللہ کی طرف رجوع کرنا
(إنابة)
مدد طلب کرنا
(استعانة)
پناہ مانگنا
(استعاذة)
فریاد رسی طلب کرنا
(استغاثة)
قربانی کرنا
(ذبح)
نذر ماننا
(نذر)

اور ان کے علاوہ عبادت کی دیگر تمام اقسام جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، وہ سب صرف اللہ ہی کے لیے ہیں۔

دوسرا بنیادی اصول

اس کی سنت سے دلیل جبرائیل علیہ السلام کی مشہور حدیث ہے، جسے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

”ایک دن ہم نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ہمارے سامنے ایک شخص ظاہر ہوا۔ اس کے کپڑے نہایت سفید اور اس کے بال نہایت سیاہ تھے۔

اس پر سفر کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے تھے اور ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا بھی نہیں تھا۔ یہاں تک کہ وہ نبی ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا، اپنے گھٹنے آپ ﷺ کے گھٹنوں سے ملا دیے اور اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر رکھ کر کہنے لگا:

’اے محمد! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے۔‘

آپ ﷺ نے فرمایا: ’اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور اگر استطاعت ہو تو اللہ کے گھر کا حج کرو۔‘

اس نے کہا: ’آپ نے سچ فرمایا۔‘

ہمیں تعجب ہوا کہ وہ خود سوال کرتا ہے اور پھر خود ہی آپ ﷺ کی تصدیق بھی کرتا ہے۔

پھر اس نے کہا: ’مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے۔‘

آپ ﷺ نے فرمایا: ’ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی نازل کردہ کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، یومِ آخرت پر اور تقدیر کے اچھے اور برے ہونے پر ایمان لاؤ۔‘

اس نے کہا: ’آپ نے سچ فرمایا۔‘

پھر اس نے کہا: ’مجھے احسان کے بارے میں بتائیے۔‘

آپ ﷺ نے فرمایا: ’احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو یقیناً وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔‘

پھر اس نے کہا: ’مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے۔‘

آپ ﷺ نے فرمایا: ’جس سے سوال کیا جا رہا ہے، وہ اس بارے میں سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔‘

اس نے کہا: ’تو پھر مجھے اس کی نشانیوں کے بارے میں بتائیے۔‘

آپ ﷺ نے فرمایا: ’جب لونڈی اپنی مالکن کو جنم دے گی، اور جب ننگے پاؤں، محتاج اور بکریاں چرانے والے لوگ بلند و بالا عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے۔‘

پھر وہ شخص چلا گیا اور ہم کچھ دیر تک وہیں بیٹھے رہے۔

اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: ’اے عمر! کیا تم جانتے ہو کہ سوال کرنے والا کون تھا؟‘

میں نے عرض کیا: ’اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔‘

آپ ﷺ نے فرمایا: ’وہ جبرائیل تھے، جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔‘“

تیسرا بنیادی اصول

اپنے نبی محمد ﷺ کی معرفت حاصل کرنا۔

یہی آپ ﷺ کا دین تھا۔ کوئی بھلائی ایسی نہیں تھی جس کی طرف آپ ﷺ نے اپنی امت کی رہنمائی نہ فرمائی ہو، اور کوئی برائی ایسی نہیں تھی جس سے آپ ﷺ نے انہیں خبردار نہ کیا ہو۔

جس بھلائی کی طرف آپ ﷺ نے اپنی امت کی رہنمائی فرمائی، وہ تھی: توحید اور ہر وہ چیز جس سے اللہ محبت کرتا ہے اور راضی ہوتا ہے۔

جس برائی سے آپ ﷺ نے اپنی امت کو خبردار کیا، وہ تھی: شرک اور ہر وہ چیز جسے اللہ ناپسند کرتا ہے اور رد فرماتا ہے۔

”اور یقیناً ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا، (جو انہیں یہ دعوت دیتا تھا):

’اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔‘“

[سورۃ النحل: 36]

اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام بندوں پر طاغوت کا انکار کرنے اور اللہ پر ایمان لانے کو فرض قرار دیا ہے۔

ابن القیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”طاغوت سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کے معاملے میں بندہ اپنی حد سے تجاوز کر جائے، مثلاً وہ چیزیں جن کی عبادت کی جائے، جن کی پیروی کی جائے یا جن کی اطاعت کی جائے۔“

اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ محمد ﷺ، آپ کے اہلِ بیت اور آپ کے صحابہ پر رحمتیں اور سلامتی نازل فرمائے۔